Views: 0

سوال، دلیل اور اضطراب: جاوید اختر کے موقف کا تنقیدی مطالعہ
(مباحثہ: Does God Exist? — جاوید اختر بمقابلہ مفتی شمیل ندوی)
خدا کے وجود پر سوال کوئی نیا نہیں۔ یہ سوال فلسفے، مذہب اور انسانی شعور کے آغاز سے انسان کے ساتھ چلتا آیا ہے۔ مگر ہر سوال اپنی نوعیت میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ سوال سچ کی تلاش سے جنم لیتے ہیں، اور کچھ سوال اندرونی بے چینی، ذاتی تجربات اور فکری الجھنوں کا اظہار ہوتے ہیں۔
جاوید اختر اور مفتی شمیل ندوی کے درمیان ہونے والا مباحثہ بظاہر خدا کے وجود پر تھا، مگر درحقیقت یہ دو مختلف ذہنی کیفیات کا تصادم تھا۔
جاوید اختر کا موقف: سوال یا داخلی اضطراب؟
جاوید اختر کے دلائل کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ:
اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنا دکھ، ناانصافی اور بے ترتیبی کیوں؟
یہ اعتراض سننے میں طاقتور محسوس ہوتا ہے، مگر فکری سطح پر یہ فلسفہ نہیں بلکہ اخلاقی ردِعمل ہے۔ جاوید اختر کا موقف عقلی استدلال سے زیادہ ذاتی احساسات پر کھڑا تھا۔ ان کی گفتگو میں سوالات تو تھے، مگر سوالات کو آگے بڑھانے والی فکری ساخت غائب تھی۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے:
دکھ کا وجود، خدا کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں بنتا — بلکہ انسانی فہم کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔
جاوید اختر بار بار اسی نکتے پر لوٹتے رہے، مگر جب اس اعتراض کو فلسفیانہ اور مذہبی تناظر میں رکھا گیا تو وہ اسے آگے لے جانے میں دشواری محسوس کرتے نظر آئے۔
گھبراہٹ اور فکری دباؤ
مباحثے کے دوران ایک حساس لمحہ وہ تھا جب جاوید اختر کا لہجہ بدلنے لگا۔ سوالات کی تکرار، جملوں میں لرزش، اور بعض اوقات موضوع سے ہٹ کر بات کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اپنے ہی قائم کردہ سوالات کے وزن تلے دباؤ محسوس کر رہے تھے۔
یہ گھبراہٹ ذاتی کمزوری نہیں، بلکہ ایک فکری کیفیت کی علامت تھی:
جب سوال تو ہو، مگر اس کے پیچھے متبادل نظریہ موجود نہ ہو۔
انکار اگر کسی نظامِ فکر پر مبنی نہ ہو تو وہ بالآخر خود اپنے ہی سائے سے ٹکرا جاتا ہے۔
مفتی شمیل ندوی: دلیل، تسلسل اور فکری روایت
اس کے برعکس، مفتی شمیل ندوی کا انداز نہ تو جارحانہ تھا اور نہ جذباتی۔ ان کے جوابات میں:
- منطقی تسلسل
- فلسفیانہ حوالہ
- اور مذہبی فکر کی گہرائی
واضح طور پر موجود تھی۔
انہوں نے یہ واضح کیا کہ:
خدا کا وجود کسی ایک انسانی تجربے یا دکھ کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی عقل محدود ہے، اور اسی محدودیت کے اندر رہتے ہوئے کائنات کے مطلق نظام کو پرکھنا فکری ناپختگی ہے۔
کیا سوال باقی رہتا ہے؟
اکثر مباحثوں کے بعد یہ جملہ بطورِ سہارا استعمال کیا جاتا ہے:
“سوال باقی رہتا ہے”
مگر اس مباحثے میں سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی نہیں رہا۔
یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ:
سوال کا جواب دیا گیا، مگر قبول نہیں کیا گیا۔
اور جواب کا قبول نہ کرنا، جواب کے نہ ہونے کے برابر نہیں ہوتا۔
اختتامیہ: سوال سے آگے کی منزل
یہ مباحثہ اس بات کا ثبوت تھا کہ:
- سوال اٹھانا آسان ہے
- انکار پر ڈٹ جانا آسان ہے
- مگر ایک منظم فکری نظام کے سامنے کھڑے ہو کر انکار کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے
جاوید اختر ایک بڑے شاعر، فلمی دانشور اور حساس انسان ہیں، مگر اس مباحثے میں ان کا موقف فلسفیانہ مضبوطی سے محروم نظر آیا۔ ان کی باتوں میں درد تھا، مگر دلیل نہیں۔ احساس تھا، مگر فکری تکمیل نہیں۔
اور یہی فرق تھا سوال اور جواب کے درمیان۔
Sarwat Parvez, Editor in Chief
Write-Beyond-Borders.com
Leave a Reply