Views: 0
عمر: 6 تا 10 سال
سبق: سچائی ہمیشہ عزت دلاتی ہے۔
بچوں کی کہانیاں (اردو)
بچوں کے لیے پیار، سچائی، ہمت اور اچھے اخلاق پر مبنی مختصر مگر بھرپور کہانیاں۔ ہر کہانی ایک نرم سا سبق دے کر دل کو روشن کرتی ہے۔
فوراً جائیں (Quick Jump)
1) رنگوں والا باغ 2) بارش بانٹنے والا بادل 3) بہادر ننھی لالٹین 4) ہار نہ ماننے والی پنسل 5) ایماندار ننھی چڑیارنگوں والا باغ
مینا کو وہ باغ اتفاقاً ملا۔ دادی کے گھر کے نزدیک ایک پرانی پتھریلی دیوار تھی جس پر بیلیں ایسے لٹکی تھیں جیسے سبز پردے۔ مینا نے جب بیلیں ہٹائیں تو نرم سی ہوا نے اس کے گال چھوئے، جیسے باغ برسوں سے اسے پکار رہا ہو۔
اندر داخل ہوئی تو پھول گھٹنوں تک اونچے تھے۔ سرخ لالہ جھک کر جیسے سلام کرتا، پیلا گیندا چھن چھن ہنستا، اور درختوں کی پتیاں مدھم نغمہ گنگناتیں۔ مینا حیران ہوئی: “کیا تم واقعی بول رہے ہو؟”
لالے نے نرمی سے کہا: “ہم اُن بچوں سے بات کرتے ہیں جو دل سے سنتے ہیں۔” مینا نے پوچھا: “تم اتنے رنگین کیوں ہو؟” گیندے نے قہقہہ لگایا: “کیونکہ جذبات رنگوں کو روشن کرتے ہیں!”
مینا نے یاد کیا کہ اس نے بھائی سے معافی مانگی تھی، امی کی مدد کی تھی، دوست کے ساتھ اپنے رنگ بانٹے تھے۔ باغ اور بھی چمکنے لگا۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس نے ایک بچے کے پرانے جوتوں پر ہنسی اُڑائی تھی۔ اچانک ایک کونا پھیکا پڑ گیا، جیسے روشنی کم ہو گئی ہو۔
مینا گھبرا گئی: “میں نے کیا کر دیا؟ کیا میں اسے ٹھیک کر سکتی ہوں؟” درخت کی پتیاں سرسرا کر بولیں: “غلطی انجام نہیں، موقع ہوتی ہے۔”
اگلے دن مینا نے اس بچے سے معافی مانگی اور اپنے پیسوں سے جوتوں کے تسمے لے کر دیے۔ جب وہ واپس باغ آئی تو پھیکا کونا پہلے سے زیادہ روشن ہو چکا تھا۔ لالا مسکرایا: “دیکھا؟ نیکی بڑھتی ہے۔”
مینا نے سمجھ لیا کہ باغ اصل میں اس کے اندر کے رنگوں کی تصویر ہے۔ تب سے وہ باغ جاتی تو پھولوں سے باتیں سننے نہیں، اپنے دل کو بہتر بنانے جاتی۔
بارش بانٹنے والا بادل
آسمان میں ایک ننھا سا بادل رہتا تھا، نام تھا “پف”۔ وہ بہت شرمیلا تھا۔ جب بڑے بادل بارش کرنے لگتے تو پف دور ہٹ جاتا۔ “اگر میں بارش کروں تو کہیں کسی کا دن خراب نہ ہو جائے!” وہ خود سے کہتا۔
ایک دن وہ ایک خشک کھیت کے اوپر سے گزرا۔ زمین پھٹی ہوئی تھی اور کسان آسمان کو بے بسی سے دیکھ رہا تھا۔ پھر پف نے ایک تالاب دیکھا جو سکڑ کر کیچڑ بن رہا تھا، ایک ہرن پیاسا سا پانی تک رہا تھا۔
پف کے دل میں عجیب سی کسک اٹھی۔ “شاید بارش ہمیشہ بُری نہیں ہوتی…” وہ بڑبڑایا۔ وہ بڑے بادلوں کے پاس گیا۔ “کیا میں بھی کوشش کر سکتا ہوں؟”
بڑے بادل نے گونج کر کہا: “ضرورت کے وقت بارش نعمت ہے۔ بس آہستہ شروع کرو۔” پف نے ہمت کی اور چند بوندیں گرائیں۔ نیچے ایک بچی نے چہرے پر ٹھنڈک محسوس کی اور ہنس کر بولی: “امی! آسمان مسکرا رہا ہے!”
پف حیران رہ گیا۔ وہ کسی کا دن خراب نہیں کر رہا تھا، وہ مدد کر رہا تھا۔ اس نے نرم نرم بارش کی۔ کھیت کی مٹی بھیگ گئی، تالاب میں پانی بڑھ گیا، پتے خوشی سے لرزنے لگے۔
جب بارش رکی تو قوسِ قزح نکل آئی۔ پف نے سوچا: “کیا یہ میری وجہ سے ہے؟” بڑا بادل بولا: “تم نے اپنا حصہ دیا، باقی دنیا نے اپنا کام کر لیا۔”
اس دن کے بعد پف نے سیکھ لیا کہ جب دل نیت صاف رکھے تو چھوٹی سی کوشش بھی بڑی خوشی بن جاتی ہے۔
بہادر ننھی لالٹین
ایک گاؤں تھا جہاں راتیں بہت اندھیری ہوتیں۔ ایک دکان کے باہر ایک ننھی لالٹین “نور” لٹکتی تھی۔ اس کی روشنی کم تھی، اس لیے بڑی لالٹینیں اکثر اسے چھیڑتیں: “تمہاری روشنی تو راستے تک نہیں پہنچتی!”
نور شرمندہ ہوتا مگر ہر رات جلتا، کیونکہ یہی اس کا کام تھا۔ پھر ایک رات طوفان آ گیا۔ ہوا چیخنے لگی، بارش زور زور سے برسنے لگی۔ بڑی لالٹینوں کی لو بجھ گئی، کسی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔
اسی اندھیرے میں ایک بچے کی آواز آئی: “مدد! میں راستہ بھول گیا ہوں!” نور نے دیکھا ایک ننھا لڑکا بھیگا ہوا کھڑا ہے، اس کی ٹوکری گِر گئی ہے اور پتھر پھسل رہے ہیں۔
نور کی لو کانپنے لگی، مگر وہ بجھی نہیں۔ اس نے اپنی شیشی کو ذرا سا جھکا کر ہوا سے بچایا اور روشنی کا ایک نرم سا دائرہ زمین پر جما دیا۔ لڑکے نے وہ روشنی دیکھی اور اسی کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا دکان تک پہنچ گیا۔
لڑکے نے کہا: “تم نے مجھے بچا لیا!” نور نے محسوس کیا کہ اصل بہادری بڑی روشنی نہیں، بلکہ مشکل وقت میں جلتے رہنا ہے۔
ہار نہ ماننے والی پنسل
کلاس کے پنسل باکس میں ایک چھوٹی سی پنسل تھی، نام تھا “ٹِپ”۔ وہ تصویریں بنانا پسند کرتی: ستارے، قلعے، جانور اور مسکراتے چہرے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس کی نوک جلدی ٹوٹ جاتی۔
کبھی کوئی بچہ زیادہ زور دیتا تو “چٹخ!” اور نوک ٹوٹ جاتی۔ دوسری پنسلیں ہنستیں: “تم کمزور ہو!” ٹپ دل ہی دل میں دکھی ہو جاتی۔
ایک دن ٹیچر نے کہا: “ایسا پوسٹر بناؤ جو دنیا کو بہتر بنائے۔” ایک خاموش سی بچی سارہ نے ٹپ کو اٹھایا: “تم ہی کافی ہو۔”
سارہ نے بچوں کو درخت لگاتے، صفائی کرتے اور بڑوں کی مدد کرتے دکھایا۔ ٹپ خوش ہوئی۔ پھر سارہ کا ہاتھ ذرا زور سے پڑا—“چٹخ!” نوک ٹوٹ گئی۔ ٹپ نے سوچا اب اسے پھینک دیا جائے گا، مگر سارہ مسکرائی: “کوئی بات نہیں، ہم پھر سے کوشش کریں گے۔”
اس نے ٹپ کو نرمی سے شارپن کیا اور دوبارہ کام شروع کیا۔ چند بار نوک ٹوٹی مگر سارہ نے ہمت نہ ہاری۔ آخرکار پوسٹر مکمل ہوا اور سارہ جیت گئی۔
ٹپ پہلے سے چھوٹی ہو چکی تھی مگر اسے فخر تھا: ٹوٹنا ناکامی نہیں، ہار ماننا ناکامی ہے۔
ایماندار ننھی چڑیا
بازار میں ایک ننھی چڑیا “چیکو” رہتی تھی۔ اسے چمکتی چیزیں پسند تھیں: بٹن، سکے، موتی۔ ایک دن اسے زمین پر سونے کی ایک بالی ملی جو سورج کی کرن کی طرح چمک رہی تھی۔
چیکو نے سوچا: “یہ میرے گھونسلے میں کتنی خوبصورت لگے گی!” وہ بالی چونچ میں دبا کر اُڑنے ہی والی تھی کہ اس نے ایک عورت کو گھبرایا ہوا دیکھا۔ “میری بالی… کہیں گر گئی ہے…” عورت کی آواز بھری ہوئی تھی۔
چیکو کے پروں کی رفتار کم ہو گئی۔ گھونسلہ اچانک کم اہم لگنے لگا۔ اسے ماں کی بات یاد آئی: “سچائی کا نور سونے سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔”
چیکو نیچے اُتری اور بالی احتیاط سے عورت کے دوپٹے پر رکھ دی۔ عورت خوشی سے چیخ اٹھی: “میری بالی!” دکاندار نے تالیاں بجائیں، بچے ہنسنے لگے، کسی نے چیکو کے لیے دانے پھینکے۔
مگر چیکو کے لیے سب سے بڑا انعام وہ سکون تھا جو اس کے دل میں اُتر آیا۔ اس رات اس نے گھونسلے میں ایک سفید سا پر رکھا اور کہا: “یہ میرا ایمانداری والا پر ہے۔”
مزید کہانیاں پڑھیں:
- انگریزی بچوں کی کہانیاں
- اردو بچوں کی کہانیاں
- ہندی بچوں کی کہانیاں