Views: 0

ادارتی و مشاورتی بورڈ
(اردو – میگزین سیکشن)

ادارتی بورڈ

مدیرِ اعلیٰ
ثروت پرویز
مصنف | محقق | مدیر
بانی، رائٹ بیونڈ بارڈرز
مجموعی ادارت، ادارتی وژن اور حتمی فیصلوں کے ذمہ دار۔

انگریزی مدیر
ڈاکٹر جوناتھن مائلز (لندن، برطانیہ)
ادبی نقاد | عالمی و ثقافتی مطالعہ

اردو مدیر
پروفیسر عارف حسین (لاہور، پاکستان)
اردو ادب، شاعری اور تنقید

ہندی مدیر
ڈاکٹر نیہا ورما (نئی دہلی، بھارت)
ہندی ادب اور عصری مطالعہ

تکنیکی مدیر
ایان خان
کمپیوٹر انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنل
ڈیجیٹل اشاعت اور تکنیکی ڈھانچے کے نگران۔

مشاورتی و جائزہ بورڈ (بین الاقوامی)

یہ بورڈ علمی رہنمائی، منتخب تحریروں کے جائزے اور فکری و علمی معیار کو یقینی بناتا ہے۔

  • ادارتی و مشاورتی بورڈ

    Views: 0

    ادارتی و مشاورتی بورڈ
    (اردو – میگزین سیکشن)

    ادارتی بورڈ

    مدیرِ اعلیٰ
    ثروت پرویز
    مصنف | محقق | مدیر
    بانی، رائٹ بیونڈ بارڈرز
    مجموعی ادارت، ادارتی وژن اور حتمی فیصلوں کے ذمہ دار۔

    انگریزی مدیر
    ڈاکٹر جوناتھن مائلز (لندن، برطانیہ)
    ادبی نقاد | عالمی و ثقافتی مطالعہ

    اردو مدیر
    پروفیسر عارف حسین (لاہور، پاکستان)
    اردو ادب، شاعری اور تنقید

    ہندی مدیر
    ڈاکٹر نیہا ورما (نئی دہلی، بھارت)
    ہندی ادب اور عصری مطالعہ

    تکنیکی مدیر
    ایان خان
    کمپیوٹر انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنل
    ڈیجیٹل اشاعت اور تکنیکی ڈھانچے کے نگران۔

    مشاورتی و جائزہ بورڈ (بین الاقوامی)

    یہ بورڈ علمی رہنمائی، منتخب تحریروں کے جائزے اور فکری و علمی معیار کو یقینی بناتا ہے۔

  • Views: 0

    خاموش شہروں کی چیخ

    فاطمہ سلیم ۔ شکاگو ۔ امریکہ

    شہر کبھی خاموش نہیں ہوتے، مگر آج کے شہر چیخنے کے باوجود سنے نہیں جاتے۔ ٹریفک کا شور، موبائل کی گھنٹیاں، اسکرینوں کی روشنی—سب کچھ موجود ہے، مگر انسان غائب ہے۔

    ہم نے بات کرنا چھوڑ دیا ہے، سننا تو کب کا بھول چکے۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ سانس کی حد تک پہنچ گئے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے پہلے سے زیادہ ہیں۔
    شاید مسئلہ شور کا نہیں، سننے کی صلاحیت کے ختم ہونے کا ہے۔

    شہر چیخ رہا ہے، مگر ہمیں خاموشی کی عادت پڑ چکی ہے۔

    وقت کے کاندھوں پر رکھا ہوا انسان

    سکھوندر سنگھ ۔ امرتسر ۔ انڈیا

    ہم وقت کو الزام دیتے ہیں، مگر کبھی خود سے نہیں پوچھتے کہ ہم نے وقت کو کیا دیا؟
    ہم دوڑتے جا رہے ہیں — کس سمت؟ کسی کو خبر نہیں۔

    انسان آج بھی وہی ہے، بس رفتار تیز ہو گئی ہے۔
    کل کے خواب آج کے بوجھ بن چکے ہیں۔
    ہم نے وقت کو جیتنے کی کوشش میں خود کو ہار دیا ہے۔

    شاید اصل کامیابی رکنے میں ہے، سوچنے میں ہے، اور خود کو سننے میں۔

    سرحد کے اُس پار بھی انسان بستے ہیں

    تنویر خان ۔ ممبئی ۔ انڈیا

    نقشے ہمیں بانٹ دیتے ہیں، مگر درد ایک جیسا ہوتا ہے۔
    ماں کی دعا، بچے کی ہنسی، اور انسان کی خواہش—سب سرحدوں سے آزاد ہوتے ہیں۔

    ہم نے نفرت کو وراثت بنا لیا ہے، اور محبت کو سیاست کا قیدی۔
    مگر سچ یہ ہے کہ انسان ہونے کی پہچان، کسی پاسپورٹ کی محتاج نہیں۔

    دنیا کو اگر بچانا ہے تو سرحدیں نہیں، دل کھولنے ہوں گے۔

    ٹیکنالوجی اور تنہائی

    عارف محمود ۔ لندن ۔ یو کے

    ہم ایک دوسرے سے جُڑے ہیں، مگر تنہا ہیں۔
    ہزاروں دوست، مگر کوئی اپنا نہیں۔

    ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے، مگر خاموشیاں بڑھا دیں۔
    ہم بات کرتے ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔

    انسان کو مشین بننے میں دیر نہیں لگتی،
    لیکن انسان رہنا آج سب سے بڑی جدوجہد ہے۔

    امید اب بھی زندہ ہے

    انل کمار سریواستو ۔ لکھنؤ ۔ انڈیا

    مایوسی کے شور میں امید اکثر دب جاتی ہے، مگر مرتی نہیں۔
    یہ خاموشی سے سانس لیتی رہتی ہے، کسی دل کے کونے میں۔

    جب کوئی بچے کو کتاب پڑھاتا ہے،
    جب کوئی اجنبی کسی کو مسکرا کر دیکھتا ہے،
    وہیں امید جنم لیتی ہے۔

    دنیا ٹوٹ نہیں رہی—وہ خود کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے۔

  • Magazine Urdu

    Views: 0



    رائٹ بیونڈ بارڈرز
    ماہنامہ ادبی و فکری مجلہ

    © 2026 رائٹ بیونڈ بارڈرز
    جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    اس اشاعت کا کوئی بھی حصہ، ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر، کسی بھی صورت میں نقل، محفوظ یا شائع نہیں کیا جا سکتا، سوائے مختصر اقتباسات کے جو تنقیدی یا تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں۔


    ایڈیشن: اردو
    جلد: 1
    شمارہ: 1
    مہینہ و سال: جنوری 2026

    ناشر: رائٹ بیونڈ بارڈرز
    ویب سائٹ: https://write-beyond-borders.com

    اس مجلے میں شائع ہونے والے مضامین میں پیش کیے گئے خیالات مصنفین کے ذاتی ہیں اور ادارتی پالیسی کی لازمی نمائندگی نہیں کرتے۔


    اداراتی و مشاورتی بورڈ

    (URDU – Magazine Post)

    اداراتی بورڈ

    مدیرِ اعلیٰ
    ثروت پرویز
    مصنف | محقق | مدیر
    بانی، رائٹ بِیونڈ بارڈرز
    ادارتی پالیسی، وژن اور حتمی منظوری کے ذمہ دار۔

    انگریزی مدیر
    Dr. Jonathan Miles (لندن، برطانیہ)
    ادبی نقاد | عالمی امور و ثقافتی مطالعہ
    انگریزی مضامین اور تحقیقی تحریروں کی نگرانی۔

    اردو مدیر
    پروفیسر عارف حسین (لاہور، پاکستان)
    اردو اسکالر | شاعر و نقاد
    اردو ادب، شاعری، افسانہ اور تنقیدی مضامین کے نگران۔

    ہندی مدیر
    Dr. Neha Verma (نئی دہلی، بھارت)
    ہندی ادب و معاصر مطالعہ
    ہندی تحریروں اور تجزیاتی مواد کی نگرانی۔

    ٹیکنیکل ایڈیٹر
    ایان خان
    کمپیوٹر انجینئر و آئی ٹی پروفیشنل
    ڈیجیٹل اشاعت، ملٹی لنگول نظام اور تکنیکی معیار کے ذمہ دار۔


    مشاورتی و جائزہ بورڈ (بین الاقوامی)

    یہ بورڈ منتخب تحریروں کی علمی جانچ، رہنمائی اور اشاعتی معیار کو یقینی بناتا ہے۔

    Dr. Richard Cole (کینیڈا) —

    Prof. Michael Rosenfeld (جرمنی) — سیاسی فلسفہ، عالمی اخلاقیات

    Dr. Ayesha Rahman (پاکستان) — صنفی مطالعہ، جنوبی ایشیائی ادب

    Prof. Carlos Mendoza (اسپین) — تقابلی ادب، ترجمہ

    Dr. Fatima Al-Zahra (مصر) — تاریخ و تہذیب


    فہرستِ مضامین

    اداریہ
    مدیرِ اعلیٰ کی میز سے …………………………………. 1


    عصرِ انتشار
    توجہ کیسے اکیسویں صدی کی سب سے قیمتی کرنسی بن گئی
    جوناتھن مائلز (لندن، برطانیہ) …………………… 4


    افسانہ
    آخری سگنل
    عائشہ رحمان (کراچی، پاکستان) …………………… 12


    عالمی امور
    بغیر محاذ کے جنگیں: ڈیجیٹل دور میں تصادم
    ڈینیئل رتھ (برلن، جرمنی) ……………………….. 18


    تاریخ و تہذیب
    وہ سلطنتیں جو بغیر جنگ کے زوال پذیر ہوئیں
    مائیکل گرانٹ (آکسفورڈ، برطانیہ) ………………… 25


    سماج و ثقافت
    شور زدہ دنیا میں کہانیاں اب بھی کیوں اہم ہیں
    سوفیا الواریز (میڈرڈ، اسپین) ……………………. 31


    شاعری
    خاموشی اور وقت پر تین نظمیں
    کویتا شرما (جے پور، بھارت) …………………….. 36


    فلسفہ
    کیا معنی کے لیے عقیدہ ضروری ہے؟
    عمر صدیقی (ٹورنٹو، کینیڈا) …………………….. 40


    سائنس و ذہن
    توجہ اور عادت کی نفسیات
    ڈاکٹر ایتھن کول (بوسٹن، امریکہ) ……………….. 45


    مزاح
    خود پر ہنسنا
    نکھل ورما (ممبئی، بھارت) ………………………. 50


    اختتامی نوٹ
    جہاں سوچ کا سفر جاری رہتا ہے ………………………. 54



    اداریہ

    مدیرِ اعلیٰ کی میز سے

    ہم ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں ہر طرف آوازیں ہیں، مگر سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
    معلومات کی فراوانی نے فہم کو آسان بنانے کے بجائے، اسے مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
    رفتار نے گہرائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور ردِعمل نے غور و فکر کی جگہ لے لی ہے۔

    رائٹ بیونڈ بارڈرز اسی بے چینی سے جنم لینے والی ایک فکری کاوش ہے۔

    یہ مجلہ شور میں شامل ہونے کے لیے نہیں،
    بلکہ اس سے اوپر اٹھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

    ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہاں پیش کیے گئے خیالات حتمی ہیں،
    مگر یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ ہر خیال توجہ، احترام اور وقت کا حق دار ہے۔
    تحریر محض اظہار نہیں ہوتی—
    یہ ایک انتخاب ہوتی ہے:
    آسانی کے بجائے دیانت داری کا،
    نعرے کے بجائے معنویت کا،
    اور جلدبازی کے بجائے تدبر کا۔

    اس شمارے میں شامل مضامین، افسانے، نظمیں اور فکری تحریریں
    مختلف ملکوں، زبانوں اور تجربات سے تعلق رکھتی ہیں،
    مگر ان سب میں ایک قدر مشترک ہے:
    سوچنے کی جرأت۔

    ہم سمجھتے ہیں کہ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں،
    بلکہ تہذیب، یادداشت اور شناخت کا اظہار بھی ہے۔
    اسی لیے رائٹ بیونڈ بارڈرز
    انگریزی، اردو اور ہندی میں شائع ہو کر
    اس یقین کی توثیق کرتا ہے کہ خیال کسی ایک زبان یا سرحد کا پابند نہیں۔

    یہ پہلا شمارہ اختتام نہیں، بلکہ آغاز ہے—
    ایسی گفتگو کا آغاز
    جو شاید فوری جواب نہ دے،
    مگر درست سوال ضرور پیدا کرے۔

    اگر یہ صفحات آپ کو لمحہ بھر رکنے،
    سوچنے، یا کسی بات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیں،
    تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب سمجھے جائیں گے۔

    کیونکہ اس دور میں،
    جہاں توجہ سب سے قیمتی کرنسی بن چکی ہے،
    سوچنا خود ایک باوقار عمل ہے۔


    ✍️ مدیرِ اعلیٰ
    ثروت پرویز
    جنوری 2026



    عصرِ انتشار

    توجہ کیسے اکیسویں صدی کی سب سے قیمتی کرنسی بن گئی

    جوناتھن مائلز
    لندن، برطانیہ

    موصولہ مسودہ: 12 دسمبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 28 دسمبر 2025


    اکیسویں صدی نے خاموشی سے انسانی توجہ کو اپنی سب سے قیمتی شے بنا لیا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں رابطہ مسلسل ہے، مگر یکسوئی نایاب۔ اطلاعات کا بہاؤ رکتا نہیں، اسکرینیں پلک جھپکنے نہیں دیتیں، اور انسانی ذہن ایک لمحے میں کئی سمتوں میں کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اس ماحول میں توجہ اب فطری صلاحیت نہیں رہی، بلکہ ایک قابلِ ناپ، قابلِ فروخت شے بن چکی ہے۔

    آج ہر اسکرول، ہر کلک، ہر لمحاتی توقف کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
    انسانی توجہ کو سمجھا نہیں جاتا—اسے حاصل کیا جاتا ہے۔
    پچھلے ادوار میں مقابلہ زمین، محنت اور سرمائے پر تھا؛
    آج مقابلہ انسانی ذہن پر ہے۔

    ٹیکنالوجی نے محض رفتار نہیں بڑھائی، بلکہ ادراک کی ساخت بدل دی ہے۔
    ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ انسان زیادہ سے زیادہ وقت وہیں گزارے۔ فوری ردِعمل، مسلسل تحریک، اور غیر متوقع انعام—یہ سب ذہن کو باندھنے کے آزمودہ طریقے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ توجہ ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ طویل یکسوئی، جو کبھی مطالعے، غور و فکر اور سیکھنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی تھی، اب ایک مشکل ہنر بن چکی ہے۔

    اس تبدیلی کے نفسیاتی اور ثقافتی اثرات گہرے ہیں۔
    جب توجہ منتشر ہو تو فہم سطحی ہو جاتا ہے۔
    خیالات کو پرکھنے کے بجائے صرف استعمال کیا جاتا ہے،
    رائے ثبوت سے پہلے قائم ہو جاتی ہے،
    اور جذبات سوچ پر سبقت لے جاتے ہیں۔

    عوامی مکالمہ شور میں بدل جاتا ہے۔
    باریکی کی جگہ سادگی،
    سچ کی جگہ سنسنی،
    اور دلیل کی جگہ ردِعمل لے لیتا ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی توجہ ایک کرنسی بن چکی ہے۔
    اشتہارات، سیاست، میڈیا اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد
    سب اسی ایک بازار میں سرگرم ہیں۔
    الگورتھم طے کرتے ہیں کہ کیا دیکھا جائے گا اور کیا نظرانداز ہو جائے گا—
    اکثر بغیر اس کے کہ صارف کو اس کا احساس ہو۔
    اب کسی پیغام کی قدر اس کی گہرائی سے نہیں،
    بلکہ اس کی توجہ کھینچنے کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔

    مگر یہی حقیقت ایک اخلاقی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔
    اگر توجہ محدود ہے،
    تو اس کا استعمال محض عادت نہیں—ایک ذمہ داری ہے۔

    گہرائی سے پڑھنا،
    توجہ سے سننا،
    اور سوچ سمجھ کر ردِعمل دینا
    ایسے اعمال ہیں جو اس نظام کے خلاف ایک خاموش مزاحمت کی صورت رکھتے ہیں
    جو انتشار سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

    توجہ کی بازیافت دراصل خودی کی بازیافت ہے—
    اپنے وقت، اپنی سوچ اور اپنی شناخت پر اختیار کی بازیافت۔

    عصرِ انتشار محض ایک تکنیکی کیفیت نہیں،
    بلکہ شعور کا امتحان ہے۔
    یہ طے کرنا کہ ہم اپنی توجہ کہاں اور کیسے صرف کرتے ہیں،
    اکیسویں صدی کے فکری اور اخلاقی رخ کا تعین کرے گا۔

    جب ہم اپنی توجہ کی حفاظت کرنا سیکھ لیں،
    تو شاید ہم دوبارہ
    سوچنے کی قوت
    اور خیال کی قدر
    کو پہچان سکیں۔



    آخری سگنل

    عائشہ رحمان
    کراچی، پاکستان

    موصولہ مسودہ: 18 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 6 دسمبر 2025


    سگنل ٹھیک رات دو بج کر سترہ منٹ پر آیا۔

    نہ کوئی آواز، نہ اطلاع—
    بس فون کی ہلکی سی لرزش،
    جو خاموشی کو چیرتی ہوئی نیند کے کنارے تک پہنچی۔

    زارا نے چند لمحے چھت کو تکتے ہوئے گزارے، پھر آہستہ سے فون اٹھایا۔
    کمرے میں پرانی کتابوں اور گرد کی ملی جلی بو تھی۔
    باہر کراچی سو رہا تھا—
    یا شاید جاگ رہا تھا،
    بس آنکھیں بند کیے ہوئے۔

    اسکرین پر کوئی لفظ نہیں تھا۔
    صرف ایک ٹمٹماتا ہوا نقطہ۔

    وہ فوراً سمجھ گئی۔

    کئی سال پہلے، جب فاصلے ابھی ناقابلِ عبور نہیں لگتے تھے اور وقت میں وسعت تھی، انہوں نے یہ اشارہ طے کیا تھا۔
    اگر سب کچھ بکھر جائے،
    اگر نمبر بدل جائیں،
    اگر نام خطرہ بن جائیں—
    تو ایک نقطہ کافی ہوگا۔

    میں ابھی موجود ہوں۔

    زارا کا انگوٹھا اسکرین پر ٹھہر گیا۔
    تین برس ہو چکے تھے اس سگنل کا جواب نہ دیے ہوئے۔
    جب خاموشی، وضاحت سے آسان لگنے لگی تھی۔

    اس نے ایک نقطہ لکھا—
    پھر مٹا دیا۔

    ماضی ایک ایسی جگہ تھی
    جہاں واپس جانے کی قیمت بہت زیادہ تھی۔

    فون دوبارہ لرزا۔

    اس بار دو نقطے تھے۔

    اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

    یادیں خود بخود جاگ اٹھیں—
    غیر مستحکم نیٹ ورک پر ہونے والی رات کی گفتگو،
    خوف کو مذاق میں چھپانے کی ناکام کوششیں،
    اور وہ وعدے
    جو اس لیے آسان تھے
    کہ مستقبل بہت دور لگتا تھا۔

    وہ دونوں ہی غلط تھے۔

    باہر کسی بلی نے کچرے کے ڈبے کو الٹ دیا۔
    کہیں دور جنریٹر کی آواز ابھری۔
    شہر حسبِ معمول چلتا رہا—
    ادھوری کہانیوں سے بے نیاز۔

    زارا نے پھر ٹائپ کیا۔

    ایک نقطہ۔

    ارسال۔

    جواب فوراً آیا۔

    تین نقطے۔

    اس کی سانس رک سی گئی۔
    یہ طے نہیں ہوا تھا۔

    بدلتا ہوا اشارہ
    عجلت کی علامت تھا۔

    چند لمحوں بعد الفاظ نمودار ہوئے:

    “شاید یہ آخری بار ہو۔”

    اس کے سینے میں ایک مانوس سی کسک اٹھی—
    یہ جاننے کی کسک
    کہ کچھ رشتے مضبوط اس لیے نہیں ہوتے
    کہ وہ طاقتور ہوں،
    بلکہ اس لیے
    کہ وہ خاموشی سے مرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

    اس نے جواب لکھا:

    “آخری لمحے بھی معنی رکھتے ہیں۔”

    نقطے لرزے،
    ٹھہرے،
    اور پھر غائب ہو گئے۔

    نہ الوداع،
    نہ وضاحت۔

    سگنل ختم ہو گیا۔

    زارا نے فون الٹا میز پر رکھ دیا
    اور اندھیرے میں بیٹھی
    شہر کی آوازیں سنتی رہی۔

    کچھ رشتے قائم رکھنے کے لیے نہیں ہوتے—
    وہ صرف یہ یاد دلانے آتے ہیں
    کہ کبھی
    ہم واقعی دیکھے گئے تھے۔

    اور بعض اوقات،
    یہی کافی ہوتا ہے۔



    — عالمی امور

    بغیر محاذ کے جنگیں

    ڈیجیٹل دور میں تصادم

    ڈینیئل رتھ
    برلن، جرمنی

    موصولہ مسودہ: 22 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 10 دسمبر 2025


    اکیسویں صدی کی جنگیں اب میدانوں، خندقوں اور سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔
    آج جنگ خاموشی سے ہوتی ہے—
    سرورز میں، اسکرینوں پر، معیشتوں میں اور ذہنوں کے اندر۔

    سائبر حملے بجلی کے نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں،
    ہسپتالوں کو ناکارہ بنا سکتے ہیں،
    انتخابات کو مشکوک بنا سکتے ہیں—
    بغیر ایک گولی چلائے۔

    یہ وہ جنگ ہے جس میں حملہ آور نظر نہیں آتا
    اور نقصان فوری طور پر محسوس نہیں ہوتا،
    مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

    اطلاعات بھی اب ہتھیار بن چکی ہیں۔
    غلط معلومات، افواہیں اور نفسیاتی دباؤ
    عوامی اعتماد کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
    سچ ایک متنازع خطہ بن جاتا ہے
    اور عام شہری نادانستہ طور پر اس جنگ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    معاشی دباؤ بھی اسی جنگ کا ایک رخ ہے۔
    پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں اور مالی تنہائی
    ریاستوں کو کمزور کرتی ہیں،
    مگر ان کا بوجھ اکثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔

    ان جنگوں کی سب سے تشویشناک بات ان کا اختتام نہ ہونا ہے۔
    یہ نہ اعلان کے ساتھ شروع ہوتی ہیں
    اور نہ کسی معاہدے پر ختم۔

    ڈیجیٹل دور کی یہ جنگیں
    انسانی وقار، بین الاقوامی قانون
    اور اخلاقی ذمہ داریوں پر
    ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہیں۔


    — تاریخ و تہذیب

    وہ سلطنتیں جو بغیر جنگ کے زوال پذیر ہوئیں

    مائیکل گرانٹ
    آکسفورڈ، برطانیہ

    موصولہ مسودہ: 15 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 8 دسمبر 2025


    تاریخ اکثر سلطنتوں کو ان کی فتوحات سے پہچانتی ہے،
    مگر بہت سی عظیم سلطنتیں
    کسی فیصلہ کن جنگ کے بغیر ہی ختم ہو گئیں۔

    رومی سلطنت کا زوال
    ایک دن میں نہیں آیا۔
    بدعنوانی، معاشی عدم مساوات،
    اور اداروں پر سے اعتماد کا اٹھ جانا
    اس کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہا۔

    اسی طرح عباسی خلافت
    علم اور تہذیب کا مرکز ہونے کے باوجود
    داخلی انتشار، اقتدار کی کشمکش
    اور مرکزی اختیار کی کمزوری کا شکار ہو گئی۔

    مغلیہ سلطنت بھی
    انتظامی کمزوری، مالی دباؤ
    اور جانشینی کے تنازعات کے باعث
    آہستہ آہستہ بکھر گئی۔

    ان مثالوں میں ایک قدر مشترک ہے:
    جب انصاف منتخب ہو جائے،
    ادارے کمزور پڑ جائیں
    اور قیادت مستقبل کے بجائے
    حال پر توجہ دے—
    تو زوال خود بخود شروع ہو جاتا ہے۔

    تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے:
    سلطنتیں باہر سے نہیں،
    اکثر اندر سے ٹوٹتی ہیں۔


    — سماج و ثقافت

    شور زدہ دنیا میں کہانیاں اب بھی کیوں اہم ہیں

    سوفیا الواریز
    میڈرڈ، اسپین

    موصولہ مسودہ: 20 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 12 دسمبر 2025


    ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں
    جہاں آوازیں بہت ہیں،
    مگر معنی کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    اطلاعات کا سیلاب
    ہمیں باخبر تو رکھتا ہے،
    مگر باخبر ہونا
    سمجھنے کی ضمانت نہیں۔

    کہانیاں معلومات نہیں ہوتیں—
    وہ تشریح ہوتی ہیں۔
    اعداد و شمار بتاتے ہیں کیا ہوا،
    کہانیاں بتاتی ہیں کیوں ہوا۔

    صدیوں سے انسان
    اپنی اقدار، یادداشت
    اور شناخت کو
    کہانیوں کے ذریعے محفوظ کرتا آیا ہے۔
    آج بھی،
    جب سب کچھ تیز ہو چکا ہے،
    کہانیاں ہمیں رکنے پر مجبور کرتی ہیں۔

    ڈیجیٹل دنیا میں
    جہاں الگورتھم شور کو ترجیح دیتے ہیں،
    سچی کہانیاں مزاحمت بن جاتی ہیں۔
    وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں
    کہ ہر بحران کے پیچھے
    انسان موجود ہے۔

    جہاں دلیل تقسیم کرتی ہے،
    کہانی جوڑتی ہے۔
    اور اسی لیے
    شور کے اس عہد میں بھی
    کہانیاں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔



    شاعری

    خاموشی اور وقت پر تین نظمیں

    کویتا شرما
    جے پور، بھارت

    موصولہ مسودہ: 10 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 30 نومبر 2025


    . خاموشی

    خاموشی خالی نہیں،
    یہ اُن لفظوں سے بھری ہے
    جو کہے نہ جا سکے۔

    یہ جملوں کے درمیان
    ٹھہر کر سانس لیتی ہے،
    پرانے صفحوں پر جمی گرد کی طرح۔


    II. وقت

    وقت آگے نہیں بڑھتا،
    وہ ہمیں آہستہ آہستہ گھیرتا ہے—
    جیسے ٹلتا ہوا سوال۔

    ماضی ہماری عادتوں میں
    ابھی تک زندہ ہے،
    اور مستقبل
    اکثر تکرار بن کر آتا ہے۔


    III. لمحوں کے بیچ

    ایک لمحے اور دوسرے کے درمیان
    کچھ نہ کچھ کھو جاتا ہے—
    ایک خیال،
    ایک یقین،
    یا خود کا کوئی پرانا رُخ۔

    ہم اسے وقت گزرنا کہتے ہیں،
    شاید یہ
    زندگی کا انتخاب ہے۔


    — فلسفہ

    کیا معنی کے لیے عقیدہ ضروری ہے؟

    عمر صدیقی
    ٹورنٹو، کینیڈا

    موصولہ مسودہ: 25 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 14 دسمبر 2025


    انسانی تاریخ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے
    کہ زندگی کو معنی کہاں سے ملتے ہیں۔
    کچھ کے نزدیک یہ معنی عقیدے سے جنم لیتے ہیں،
    جبکہ کچھ کے لیے معنی انتخاب اور ذمہ داری کا نتیجہ ہیں۔

    عقیدہ ایک وسیع بیانیہ فراہم کرتا ہے—
    وہ دکھ کی توجیہ دیتا ہے،
    اخلاقی حدود متعین کرتا ہے
    اور وجود کو ایک مقصد سے جوڑتا ہے۔

    مگر جدید فکر یہ سوال اٹھاتی ہے
    کہ کیا معنی باہر سے ملتا ہے
    یا انسان خود تخلیق کرتا ہے؟

    یہ بحث دو انتہاؤں میں قید نہیں۔
    یقین اور شک اکثر ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
    اصل سوال شاید یہ نہیں
    کہ عقیدہ ضروری ہے یا نہیں،
    بلکہ یہ ہے
    کہ ہم کن اقدار کے ساتھ جیتے ہیں۔

    معنی
    یقین ہو یا انتخاب—
    عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔


    — سائنس و ذہن

    توجہ اور عادت کی نفسیات

    ڈاکٹر ایتھن کول
    بوسٹن، امریکہ

    موصولہ مسودہ: 27 نومبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 16 دسمبر 2025


    توجہ محض ذہنی صلاحیت نہیں،
    یہ شعور کا دروازہ ہے۔
    جس پر توجہ مرکوز ہوتی ہے
    وہی تجربہ بن جاتا ہے۔

    جدید تحقیق بتاتی ہے
    کہ دماغ انعام کے غیر متوقع اشاروں پر
    زیادہ تیزی سے ردِعمل دیتا ہے۔
    نوٹیفکیشن، لائکس اور اسکرولنگ
    اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔

    یہ عادت نہیں،
    ایک سیکھا ہوا رویّہ ہے—
    اور خوش آئند بات یہ ہے
    کہ دماغ خود کو دوبارہ ترتیب دے سکتا ہے۔

    توجہ کی حفاظت
    نفسیاتی صحت کی بنیاد ہے۔


    — مزاح

    خود پر ہنسنا

    نکھل ورما
    ممبئی، بھارت

    موصولہ مسودہ: 5 دسمبر 2025
    منظور شدہ برائے اشاعت: 18 دسمبر 2025


    ہم نے زندگی آسان بنانے کے لیے
    اتنی ایپس بنا لیں
    کہ زندگی خود ایک ایپ بن گئی—
    جسے اپ ڈیٹ کی ضرورت رہتی ہے۔

    ہم اسکرینوں سے ایسے بات کرتے ہیں
    جیسے وہ ہمیں سمجھتی ہوں،
    اور انسانوں سے ایسے
    جیسے وہ بیٹری کم کر دیں گے۔

    خود پر ہنس لینا
    شاید اس دور کی سب سے بڑی عقل مندی ہے—
    کیونکہ اگر ہم نہ ہنسیں
    تو الجھن ہنس لے گی۔


    — اختتامی نوٹ

    جہاں سوچ کا سفر جاری رہتا ہے

    یہ شمارہ
    کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے نہیں تھا،
    بلکہ ایک مکالمے کی ابتدا تھا۔

    ان صفحات میں
    جو سوالات اٹھائے گئے،
    وہ فوری جوابات نہیں مانگتے—
    وہ وقت مانگتے ہیں،
    توجہ مانگتے ہیں۔

    اگر یہ تحریریں
    آپ کو لمحہ بھر ٹھہرنے پر مجبور کر دیں،
    تو یہی ہماری کامیابی ہے۔

    سوچ سرحدوں کی پابند نہیں،
    اور یہ سفر
    یہیں ختم نہیں ہوتا۔


    ✍️ ادارتی بورڈ
    رائٹ بیونڈ بارڈرز
    2026 جنوری