Views: 37
محفل شعراء
شب – وصال وہ سانسوں کا نغمہ گیں سا ساز
نا بھول پاؤں گا میں وہ خمار کن آواز
نہیں جہان میں جاناں تمہاری کوئی مثال
ہے میری زیست کا حاصل تمہارا قرب و وصال۔۔۔۔۔۔۔
ثروت پرویز
تھکن سے ذرا بھی مایوسی نہیں ہوتی ان کو
طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ ہو جن کو
ثروت پرویز
کھو تو جانا چاہتا تھا حسیں خوابوں میں
لیکن ساری رات جگائے رکھا فکر سحر نے
ثروت پرویز
ہم وہ ہیں انسان جو کسی کے قابو میں نہیں
اور خالق کے سہارے ہی جئے جاتے ہیں
ثروت پرویز
. مایوس ضرور ہوں نا امید نہیں
مشکل تو ہے لیکن نا ممکن بھی نہیں
ثروت پرویز
۔ دل کو بھی ذرا دھڑکنے تو دیں
ہجر کی بات ابھی تو نا کریں
ہمارے اس وصال کو سوال تو نہ کریں
سویرا ہونے کو ہے ذرا انتظار تو کریں
ثروت پرویز
دل نے کہا تھا، علم کو چراغ بنا لینا
وقت نے سکھایا، خود کو بھی راستہ دکھا لینا
لفظ جب سجدے میں ہوں، معنی عبادت بن جائیں
ایسے لمحے میں ہی انسان کو انسان بنا لینا
سائنس نے پوچھا حقیقت کا سراغ کیا ہے
وحی نے مسکرا کر کہا، خود کو پہچان لینا
صدیوں کی خامشی میں جو آواز سنائی دے
وہی تو ہے، جسے تم نے قرآں سمجھ لینا
ہم نے کتابوں میں خدا کو ڈھونڈا بہت
پھر سمجھ آیا، دل کو بھی ایک صفحہ مان لینا
— ثروتؔ
غزل
صبح کی پہلی کرن نے یہ پیغام دیا
رات کا ہر اندھیرا بھی اک دن مٹ گیا
خامشی بول اٹھی دل کی گہرائی میں
جب تری یاد نے آ کر مجھے آواز دیا
ہم نے خوابوں کو ہتھیلی پہ سجائے رکھا
وقت نے آ کے مگر سب کو بکھرنا سکھا دیا
تیرا ہونا ہی تھا اس شہرِ خموشی کا علاج
تو نے اک لمس میں صدیوں کا فاصلہ مٹا دیا
ہم نے چاہا تھا فقط سچ کے سہارے جینا
لوگوں نے رسمِ زمانہ کو ہی خدا بنا دیا
اب دعا یہ ہے کہ دل پھر سے اجالا مانگے
غم نے جو کچھ بھی لکھا، صبر نے اس کو مٹا دیا
آخرِ شعر میں ثروتؔ یہ صدا دل سے اٹھی
زندگی شکر ہے تُو نے مجھے زندہ رکھا دیا
— ثروتؔ
غزل
ہم نے معنی کو لفظوں میں قید کرتے دیکھا
پھر لفظوں کو ہی معنی سے بغاوت کرتے دیکھا
وقت اک سوال بن کر ہمارے سامنے تھا
ہم نے ہر جواب کو خود میں ٹوٹتے دیکھا
جو کچھ بھی تھا وہ وہمِ نظر سے آگے نہ گیا
حقیقتوں کو بھی اکثر بدلتے دیکھا
انکار میں بھی اقرار کی صورت نکلی
خاموشیوں کو دلیل میں ڈھلتے دیکھا
ہم خود ہی اپنے خدا، اپنے منکر ٹھہرے
ضمیر کو ہی سجدوں سے ہٹتے دیکھا
جو سوچ سے پرے تھا وہی سچ نکلا
ہم نے عقل کو بھی حد میں سمٹتے دیکھا
آخرِ کار ثروتؔ یہ عقدہ کھلا
انسان کو خود سے ہی بھاگتے دیکھا
— ثروتؔ
غزل
ہم وجود ڈھونڈتے رہے عدم کے شہر میں
اور عدم ہنستا رہا ہمارے ہر ہنر میں
جو تھا، وہ تھا ہی نہیں اپنے سوالوں میں
جو نہیں تھا، وہی سچ ٹھہرا خبر میں
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تھا آئینوں میں
ہر عکس ٹوٹ گیا میرے ہی نظر میں
وجود ایک لمحہ ہے، ٹھہراؤ نہیں
یہ بات سمجھی گئی آخرِ سفر میں
عدم کوئی خلا نہیں، اک در ہے ثروتؔ
جس سے گزر کے معنی اترتے ہیں بشر میں
— ثروتؔ