Views: 0
خاموش شہروں کی چیخ
فاطمہ سلیم ۔ شکاگو ۔ امریکہ
شہر کبھی خاموش نہیں ہوتے، مگر آج کے شہر چیخنے کے باوجود سنے نہیں جاتے۔ ٹریفک کا شور، موبائل کی گھنٹیاں، اسکرینوں کی روشنی—سب کچھ موجود ہے، مگر انسان غائب ہے۔
ہم نے بات کرنا چھوڑ دیا ہے، سننا تو کب کا بھول چکے۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ سانس کی حد تک پہنچ گئے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے پہلے سے زیادہ ہیں۔
شاید مسئلہ شور کا نہیں، سننے کی صلاحیت کے ختم ہونے کا ہے۔
شہر چیخ رہا ہے، مگر ہمیں خاموشی کی عادت پڑ چکی ہے۔
وقت کے کاندھوں پر رکھا ہوا انسان
سکھوندر سنگھ ۔ امرتسر ۔ انڈیا
ہم وقت کو الزام دیتے ہیں، مگر کبھی خود سے نہیں پوچھتے کہ ہم نے وقت کو کیا دیا؟
ہم دوڑتے جا رہے ہیں — کس سمت؟ کسی کو خبر نہیں۔
انسان آج بھی وہی ہے، بس رفتار تیز ہو گئی ہے۔
کل کے خواب آج کے بوجھ بن چکے ہیں۔
ہم نے وقت کو جیتنے کی کوشش میں خود کو ہار دیا ہے۔
شاید اصل کامیابی رکنے میں ہے، سوچنے میں ہے، اور خود کو سننے میں۔
سرحد کے اُس پار بھی انسان بستے ہیں
تنویر خان ۔ ممبئی ۔ انڈیا
نقشے ہمیں بانٹ دیتے ہیں، مگر درد ایک جیسا ہوتا ہے۔
ماں کی دعا، بچے کی ہنسی، اور انسان کی خواہش—سب سرحدوں سے آزاد ہوتے ہیں۔
ہم نے نفرت کو وراثت بنا لیا ہے، اور محبت کو سیاست کا قیدی۔
مگر سچ یہ ہے کہ انسان ہونے کی پہچان، کسی پاسپورٹ کی محتاج نہیں۔
دنیا کو اگر بچانا ہے تو سرحدیں نہیں، دل کھولنے ہوں گے۔
ٹیکنالوجی اور تنہائی
عارف محمود ۔ لندن ۔ یو کے
ہم ایک دوسرے سے جُڑے ہیں، مگر تنہا ہیں۔
ہزاروں دوست، مگر کوئی اپنا نہیں۔
ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے، مگر خاموشیاں بڑھا دیں۔
ہم بات کرتے ہیں، مگر محسوس نہیں کرتے۔
انسان کو مشین بننے میں دیر نہیں لگتی،
لیکن انسان رہنا آج سب سے بڑی جدوجہد ہے۔
امید اب بھی زندہ ہے
انل کمار سریواستو ۔ لکھنؤ ۔ انڈیا
مایوسی کے شور میں امید اکثر دب جاتی ہے، مگر مرتی نہیں۔
یہ خاموشی سے سانس لیتی رہتی ہے، کسی دل کے کونے میں۔
جب کوئی بچے کو کتاب پڑھاتا ہے،
جب کوئی اجنبی کسی کو مسکرا کر دیکھتا ہے،
وہیں امید جنم لیتی ہے۔
دنیا ٹوٹ نہیں رہی—وہ خود کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے۔
Leave a Reply